ابنا: خبروں ميں کہا گياہے کے ہزاروں کي تعداد ميں لوگ ايک بار پھر دارالحکومت لسبن کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے نئے مالي سال کے بجٹ ميں تنخواہوں اور پينشن ميں کمي کے خلاف مظاہرے کئے- مظاہرين نے صدر آنيبل کاواکو سيلوا سے مطالبہ کيا کہ وہ نئے مالي سال کے بجٹ کو مسترد اور نيا بجٹ بنا کر آئيني عدالت کے سامنے پيش کريں- پرتگال کے آئين کے تحت صدر کو اس بات کا اختيار حاصل ہے کہ وہ بجٹ بل کو جائزے کے لئے آئيني عدالت ميں بھيج سکتے ہيں-اطالوي عوام کو بھي اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ مذکورہ عدالت سے مطالبہ کريں کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ مذکورہ بجٹ تجاويز آئين کے مطابق ہيں يا نہيں- پرتگال کے دوسرے بڑے اور کثير آبادي والے شہر پورٹو ميں بھي ہزاروں افراد نے حکومت کي سخت گير معاشي پاليسيوں کے خلاف مظاہرے کئے ہيں- کہا جارہا ہے کہ پورٹو سٹي ميں ہونے والے مظاہرے ميں ايک اندازے کے مطابق پچاس سے ساٹھ ہزار لوگ شريک تھے تاہم پوليس کا کہنا ہے کہ مظاہرين کي تعداد پچيس ہزار کے لگ بھگ تھي-سرکاري قرضوں کے بحران نے يورپي يونين کے رکن ملکوں کو سخت گير معاشي پاليسياں اپنانے پر مجبور کرديا ہے تاکہ ديواليہ ہونے سے بچا جاسکے- سخت معاشي پاليسيوں کي وجہ سے پورپ کے اکثر ملکوں ميں عوامي مشکلات ميں اضافہ ہوا ہے اور لوگ ، عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت سے اپنے اخراجات ميں کمي کا مطالبہ کررہے ہيں_
.......
/169